زہری روایت کرتے ہیں میں نے یزید بن
سائب کو کہتے ہوے سنا کہ جمہ کے دن پہلی اذان اس وقت ہوتی تھی جب امام منبر
بیٹھہ جاتا تھا رسول اللہ صہ ابوبکر اور عمر کے زمانے تک اسی طرح ہوا جب
خلافت عثمان شروع ہوئی تو لوگ بہت زیادہ ہوگعے تو عثمان نے جمعہ کے دن
تیسری اذان زوراء پر دینے کا حکم دیا اور پھر یہ سلسلہ چلتا رہا-
نتیجہ ایکدم واضح ہے کہ بدعت کا فتوی
دینے والے اور ہم پر کلمہ بڑھالینے کا الزام
لگانے والا اپنے تیسرے خلیفہ کو کیا کہیں گے جنہوں نے ایک اذان کا اضافہ
کرلیا اور وہ اذان جو نہ رسول کے دور میں ہوئی نہ ابوبکر و عمر کے دور میں
ہوئی اس روایت سے تو یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ تیسرے خلیفہ نہ سیرت رسول کے
مطابق تھے نہ سیرت
شیخین پے
نتیجہ ایکدم واضح ہے کہ بدعت کا فتوی

No comments:
Post a Comment